Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کرایہ کے گھر میں رہنے والی عورت کا دورانِ عدت گھر تبدیل کر نا

Fatwa no.
3220-WAT
Issued
01 جمادی الاولی 1446ھ / 04 نومبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہمارے رشتہ دار ہیں وہ کرایہ کے گھر میں رہتے ہیں اور ان کی بہو عدت میں ہے انہوں نے گھر تبدیل کرنا ہے کیا وہ کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ کیا ان کی بہو کو اسی گھر میں ہی عدت مکمل کرنی ہو گی یا گھر تبدیل کرنے پر وہاں بھی کر سکتی ہے ؟

Answer (beginning)

شرعی مسئلہ یہ ہے کہ : " شوہر کی موت کے وقت، عورت جس مکان میں رہ رہی تھی، اسی مکان میں عدت گزارنا اس پر واجب ہوتا ہے، بغیر شرعی عذر وہ مکان چھوڑ کر دوسری جگہ جانا، جائز نہیں ہوتا۔ لہذا جب تک عورت عدت میں ہے ، بلاضرورت وہ مکان تبدیل نہ کرے اور اگر مالک مکان، مکان خالی کرنے کا کہتا ہے تو بھی اسے مسئلہ بیان کر کے مہلت لے لی جائے اور اگر مالک مکان کسی طور پر نہیں مانتا یا اتنا کر ایہ دینے کی قدرت نہیں ہے یا کوئی اور ضرورت ہے کہ جس کے باعث مکان تبدیل کیے بغیر چارہ نہیں تو عورت قریبی کسی دوسری جگہ منتقل ہو سکتی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.