Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچے کی پیدائش کے کتنے ٹائم بعد اس کے کان میں اذان دی جائے گی؟
- Fatwa no.
- 3214-WAT
- Issued
- 24 بیع الثانی 1446ھ / 28 اکتوبر 2024 ء
Question
گی؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جب بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو اس کے کان میں کتنے ٹائم بعد اذان دی جائے گی ؟
Answer (beginning)
بچے کی پیدائش کے فوراً بعد دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنا مستحب ہے ، بچے کو نہلانے کے بعد پہلا کام یہی ہونا چاہیے ، اس میں بلا وجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے تاکہ شیطان کی دخل اندازی اور ام الصبیان (سوکڑے) کی بیماری سے بچت ہو۔ چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے: ” جب بچہ پید اہو فور اسید ھے کان میں اذان، بائیں میں تکبیر کہے کہ خلل شیطان وام الصبیان سے بچے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.