Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تیمور کا مطلب اور تیمور نام رکھنا کیسا

Fatwa no.
3211-WAT
Issued
28 ربیع الثانی 1446ھ / 01 نومبر 2024 ء

Question

تیمور نام رکھ سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

تیمور کا معنی "فولاد" ہے ، معنی کے لحاظ سے یہ نام رکھنے میں شرعا حرج نہیں ہے۔ البتہ ! بہتر یہ ہے کہ اولاً بیٹے کا نام صرف "محمد "رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں "محمد نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے، پھر پکارنے کے لیے لڑکے کا نام انبیائے کرام عَلَيْهِمُ الصَّلوةُ وَالسَّلام کے اسمائے مبارکہ اور صحابہ کرام و تابعین عظام اور بزرگانِ دین رِضْوَانُ اللهِ تَعَالَى عَلَيْهِمْ أَجْمَعِین نیک لوگوں کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیجیے کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.