Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسجد کی وقف جگہ سے کچھ حصہ جامعہ کے لئے وقف کرنا کیسا؟

Fatwa no.
3209-WAT
Issued
28 ربیع الثانی 1446ھ / 01 نومبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی نے پہلے اپنی جگہ مسجد کے لئے وقف کر دی تھی، اب ارادہ بدلا اور نیت کر لی کہ ایک طرف مسجد بن جائے جب کہ دوسری طرف جامعتہ المدینہ گر لز ، تو کیا وہ نیت بدل سکتے ہیں ؟ اور اگر 10 مرلہ جگہ ہو اور دو طرف اس کاراستہ نکلتا ہو تو کیا ایسا ہو سکتا ہے نیچے مسجد اور اوپر جامعہ بنالیا جائے اور دونوں کے دروازے الگ الگ بازار میں نکال لیے جائیں یا پھر آدھی جگہ میں مسجد بنالی جائے اور آدھی میں جامعہ ، کیا یہ کرنا درست ہو گا جب کہ یہ جگہ مسجد کے لئے وقف کی تھی مگر وہاں ابھی مسجد کی تعمیرات نہیں ہوئیں، لیکن چار دیواری ہوئی ہے جس میں لوگ نماز پڑھتے ہیں ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں چونکہ اس شخص نے وہ جگہ مسجد کے لیے وقف کر دی ہے تو اب مسجد کے علاوہ کوئی چیز مدرسہ وغیرہ نیچے یا اوپر یا اس کی ایک جانب بنانا، شرعا جائز نہیں ہے کہ جب کوئی شخص کسی چیز کو وقف کر دیتا ہے تو وقف صحیح ہونے کے بعد وہ چیز واقف کی ملکیت سے نکل کر خالص اللہ پاک کی ملکیت میں چلی جاتی ہے ، اب واقف یا اس کے ورثاء کا اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کرنا اور اس کو خلاف مصرف (یعنی جس مقصد کے لئے وہ چیز وقف ہے اس کے علاوہ کسی اور کام میں ) استعمال کرنا جائز نہیں ہوتا، کیونکہ تغییر وقف (وقف کو بدلنا) اور وقف کو خلاف مصرف استعمال کرنا نا جائز و حرام ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.