Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زینیہ کا مطلب اور زینیہ نام رکھنا کیسا

Issued
19 ربیع الثانی 1446ھ / 23 اکتوبر 2024 ء

Question

زینبیہ نام رکھنا کیسا؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

Answer (beginning)

"زمینیہ " (زاء پر زبر کے ساتھ ) یہ نام رکھنا جائز ہے کہ یہ زمین سے ہے اور اس میں یاء نسبتی ہے اور تاء مونث کی جیسے مکہ سے مکیہ وغیرہ اور "زین " کا معنی ہے زینت۔ لہذ از مینیہ کا معنی بنے گا زینت والی۔ بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں، صحابیات رضی اللہ عنھن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اچھے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہو گی۔ المنجد میں ہے: زانہ یزینہ زینا: زینت دینا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.