Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

محمد ابراج نام کا مطلب اورمحمد ابراج نام رکھنا کیسا

Fatwa no.
3206-WAT
Issued
19 ربیع الثانی 1446ھ / 23 اکتوبر 2024 ء

Question

محمد ابراج نام رکھ سکتے ہیں یا نہیں ؟ (دعوت اسلامی)

Answer (beginning)

ابراج (الف پر زبر کے ساتھ جمع ہے " برج " کی، اور یہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے : خوب رُو، خوبصورت، نمایاں، روشن۔ " اس کے معنی درست ہیں، لہذا یہ نام رکھنا جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ اولا بیٹے کا نام صرف "محمد " رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں " محمد " نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے ، پھر پکارنے کے لیے لڑکے کا نام انبیائے کرام عَلَيْهِمُ الصَّلوةُ وَالسَّلام کے اسمائے مبارکہ اور صحابہ کرام و تابعین عظام اور بزرگانِ دین رِضْوَانُ اللهِ تَعَالَى عَلَيْهِمْ أَجْمَعِین نیک لوگوں کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیجیے کہ حدیث پاک…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.