Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نومولود کے بال کب اتارے جائیں اوران بالوں کا کیا کیا جائے؟
- Fatwa no.
- 3198-WAT
- Issued
- 14 ربیع الثانی 1446ھ / 18 اکتوبر 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا پیدائشی بچے کے بال فوراً اتر وانالازمی ہیں ؟ اور اتروا کر پاس رکھ لیں یا کہیں دبادیں ؟
Answer (beginning)
پیدائش کے فوراًبعد بال اتروانا ضروری نہیں، بعد میں بھی اتر واسکتے ہیں اور بہتر یہ ہے کہ ساتویں دن اتروائے جائیں اور جو بال اتریں انہیں دفن کر دیا جائے۔ سنن ابی داؤد شریف میں ہے " عن سمرة بن جندب ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «كل غلام رهينة بعقيقته تذبح عنه يوم سابعه ويحلق ويسمى "ترجمہ : حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بچہ اپنے عقیقہ کے عوض گروی ہے اس کی پیدائش کے ساتویں دن اس کا عقیقہ کیا جائے اور اس کا سر مونڈا جائے اور اس کا نام رکھا جائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.