Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نکاح کرواتے وقت کلمہ طیبہ و دعا پڑھانے کا حکم

Fatwa no.
3196-WAT
Issued
11 ربیع الثانی 1446ھ / 15 اکتوبر 2024 ء

Question

گا؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر نکاح خواں نے لڑکی کا نکاح کلمہ اور دعا پڑھائے بغیر کر وا دیا، تو اس صورت میں نکاح پر کوئی اثر تو نہیں پڑے

Answer (beginning)

نکاح کے صحیح ہونے کے لئے کلمہ یا دعاوغیرہ پڑھانا شرط نہیں ہے، بلکہ نکاح دو گواہوں ( یعنی دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں) کی موجودگی میں مردو عورت کے ایجاب و قبول کا نام ہے، نیز کلمہ طیبہ صرف قبول اسلام کے لئے پڑھنا خاص نہیں ہے ، بلکہ کلمہ وغیرہ پڑھنا پڑھانا ذ کر اللہ ہونے کی وجہ سے باعث برکت ورحمت بھی ہے ، اسی لئے بوقت نکاح کلمہ طیبہ پڑھانے کے بہت سے فوائد کے ساتھ ، ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ زبان کی بے احتیاطی اور شرعی معلومات سے دوری کی بناء پر ممکن ہے کہ انسان سے کوئی ایسی بات صادر ہو جائے جو ایمان کے منافی ہو، لہذا بہتر ہے کہ کلمہ و استغفار پڑھا دیا جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.