Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حقہ پیتے ہوئے ذکر و دعا اور فاتحہ خوانی کرنا کیسا؟

Fatwa no.
3194-WAT
Issued
11 ربیع الثانی 1446ھ / 15 اکتوبر 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) حقہ پیتے ہوئے ذکر و دعا کرنا کیسا؟ یعنی فاتحہ خوانی و غیرہ پر کئی دیہاتوں میں حقہ رکھا ہوتا ہے لوگ حقہ پی رہے ہوتے ہیں اور (کلی کئے بغیر ) ساتھ ساتھ مرحوم کے لئے دعائے مغفرت اور فاتحہ خوانی بھی وقفے وقفے سے کر رہے ہوتے ہیں؟

Answer (beginning)

ذکر و دعا اور تلاوت کے ظاہری آداب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ منہ صاف ہو ، قابل نفرت بو نہ ہو، اس چیز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عام فرشتوں کو قرآن مجید کی تلاوت کرنے کی قدرت نہیں دی، جب مسلمان قرآن شریف پڑھتا ہے، فرشتہ اس کے منہ پر منہ رکھ کر تلاوت کی لذت لیتا ہے۔ اور منہ کی بدبو جس طرح دوسرے انسانوں کے لئے ایذاء رسانی کا سبب ہے، یوں ہی فرشتوں کی ایذاء کا بھی سبب ہے ، یہی وجہ ہے کہ منہ میں قابل نفرت بو ہو تو اس وقت ذکر و دعا اور تلاوت قرآن کریم کرنا مکروہ و نا پسندیدہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.