Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مقتدی کا کلام کے ذریعے لقمہ دینے کا حکم؟
- Fatwa no.
- 3192-WAT
- Issued
- 15 ربیع الثانی 1446ھ / 19 اکتوبر 2024 ء
Question
(دعوت اسلامی) اگر امام مغرب کی نماز کی دوسری رکعت میں دونوں طرف سلام پھیر دے اور کچھ مقتدی بول کر لقمہ دیں کہ " دو رکعت ہوئی ہیں "، اور امام کھڑے ہو کر وہیں سے نماز مکمل کر کے سجدہ سہو کر لے نماز ہو گی یا نہیں جبکہ امام نے منافی نماز کوئی کام نہ کیا ہو ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں جس جس مقتدی نے یہ بول کر لقمہ دیا کہ " دور کعت ہوئی ہیں ، اس کی نماز فاسد ہو گئی کیونکہ یہ کلام کرنا ہے اور نماز میں کلام کرنا نماز کو فاسد کر دیتا ہے، پھر اگر امام نے ان مقتدیوں کا لقمہ لے کر نماز کی تیسری رکعت مکمل کی تو اب امام کی نماز غیر مقتدی سے لقمہ لینے کی وجہ سے ٹوٹ گئی، اور امام کی وجہ سے تمام مقتدیوں کی نماز بھی ٹوٹ گئی، لہذا اس صورت میں اس نماز کو دوبارہ سے ادا کیا جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.