Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قبرستان میں اپنے لیے یا اپنے عزیزوں کے لیے جگہ خاص کرنا

Fatwa no.
3191-WAT
Issued
15 ربیع الثانی 1446ھ / 19 اکتوبر 2024 ء

Question

(دعوت اسلامی) اس نیت سے وقفی قبرستان میں جگہ پر قبضہ کرنا کہ ہم یا ہمارے عزیز فوت ہوں گے تو یہاں دفن کریں گے۔ ایسا کرنا کیسا؟

Answer (beginning)

قبرستان کی زمین جبکہ عام مسلمانوں کے لئے وقف ہو ، تو اس زمین میں ہر مسلمان کو دفن کرنے کا حق پہنچتا ہے، لہذا وقفی قبرستان کی کسی مخصوص جگہ کو ایڈوانس میں (فوت ہونے سے پہلے ہی ) اپنے یا اپنے عزیزوں کے دفن کے لیے قبضہ کر لینے کا کسی کو حق نہیں۔ اور ویسے بھی کیا معلوم کہ کس کو کہاں پر موت آئے گی، لہذا اس لحاظ سے بھی قبرستان میں کوئی جگہ خاص کرنے کا کوئی معنی نہیں۔ فتاوی رضویہ میں ہے " یہاں کہ زمین اول سے عام پر وقف ہے اسے کسی وقت اپنے نفس کے لیے اسے خاص کر لینے کا اختیار نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.