Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ناپاکی کی حالت میں کپڑے دھونے کا حکم
- Issued
- 18 ربیع الثانی 1446ھ / 22 اکتوبر 2024 ء
Question
(دعوت اسلامی) غسل فرض ہونے کی حالت میں پاک کپڑے دھو سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer (beginning)
غسل فرض ہو جائے، تو بلا وجہ غسل میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے کہ حدیث میں ہے جس گھر میں جنب (بے غسل فرد) ہو، اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے، لہذا بہتر یہی ہے کہ جلد از جلد غسل کر لیا جائے یا کم از کم وضو کر لیا جائے، کیونکہ جنبی اگر وضو کر لے، تو اب رحمت کے فرشتوں کے آنے کی رکاوٹ ختم ہو جاتی ہے۔ ہاں! یادر ہے کہ بغیر عذر شرعی غسل میں اتنی تاخیر کرنا کہ نماز کا آخر وقت آگیا، تو اب فور انہانا فرض ہے، اب تاخیر کرے گا، گناہ گار ہو گا۔ البتہ حالت جنابت میں کپڑے دھونا یا گھر کے دیگر کام کاج کرنا، جائز ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.