Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شراب کا نشہ اترنے کے بعد غسل کرنا ہوگا یا نہیں؟
- Fatwa no.
- 3185-WAT
Question
(دعوت اسلامی) شراب کا نشہ اترنے کے بعد غسل کرنا فرض ہوتا ہے؟
Answer (beginning)
واضح رہے کہ شراب پینا حرام ہے اور پینے والے پر اس سے بچنا اور تو بہ کرناضروری ہے۔ اور رہی بات غسل کی تو اس سے غسل واجب نہیں ہو گا، کیونکہ یہ موجبات غسل ( غسل واجب کرنے والی چیزوں) میں سے نہیں ہے، البتہ اتنی مقدار میں شراب یا کسی نشہ آور چیز کا پینا یا استعمال کرنا جسے لینے کے بعد اتنا نشہ چڑھ جائے کہ چلنے میں پاؤں لڑکھڑائیں ، تو یہ وضو کو توڑ دیتا ہے۔ نیز شراب نا پاک بھی ہوتی ہے، لہذ الباس یا جسم کا جو بھی حصہ مجموعی یا متفرق طور پر درہم کی مقدار سے زیادہ آلودہ ہوا، تو اسے پاک کرنا فرض ہے ، بغیر پاک کیسے اسی نجاست کے ساتھ نماز پڑھ لی تو اصلا نماز ہی نہ ہو گی، اور قصداً پڑھی تو گناہ بھی ہوا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.