Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کان میں دودھ ڈالنے سے حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوتی

Fatwa no.
3183-WAT
Issued
13 ربیع الثانی 1446ھ / 17 اکتوبر 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میری نانی اماں نے میرے ماموں کے بیٹے کے کان میں، اس کی بیماری کی وجہ سے دودھ ڈالا تھا، اور اسی ماموں کی ایک دوسری بیٹی ہے ، شرعی رہنمائی فرمائیں کہ میر انکاح اس ماموں کی بیٹی سے جائز ہے یا نہیں کیونکہ اگر دیکھا جائے تو اس صورت میں ماموں کی وہ بیٹی پھر رشتے میں میری خالہ بن گئی ؟

Answer (beginning)

کان میں دودھ ڈالنے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی لہذا حرمت رضاعت ثابت ہونے کی جو عمر ہے (ڈھائی برس) اگر بچے کے کان میں اس مدت کے اندر اندر بھی دودھ ڈالا گیا ہو تو اس کی وجہ سے حرمت ثابت نہیں ہو گی، پس اگر حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو تو صورت مذکورہ میں آپ کا نکاح آپ کے ماموں کی بیٹی کے ساتھ جائز ہے۔ چنانچہ الجوھرۃ النیرۃ میں ہے ”وإن أقطر في أذنیہ۔۔۔ لم يحرم “ترجمہ : اور اگر بچے کے کان میں دودھ کے قطرے ڈالے تو حرمت ثابت نہیں ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.