Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گھر میں میت ہو جانے پر گھر میں بنا ہوا کھانا پھینکنا
- Fatwa no.
- 3181-WAT
- Issued
- 13 ربیع الثانی 1446ھ / 17 اکتوبر 2024 ء
Question
(دعوت اسلامی) اگر گھر میں میت ہو جائے تو کیا گھر میں بنا ہوا کھانا پھینک دینا چاہیے ؟
Answer (beginning)
ہر گز نہیں۔ گھر میں بنا ہوا کھانا اگر کھانے کے لائق ہے، خراب نہیں ہوا تو اسے پھینکنا اسراف ورزق کی بے حرمتی وسخت گناہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ عموما جس گھر میں میت ہو وہ غم کی وجہ سے کھانا بناتے نہیں ہیں، اس لیے چاہیے کہ ان کے گھر پہلے دن کھانا بھیج دیا جائے اور اصرار کر کے انھیں کھلایا جائے، لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کھانا بناناہی حرام ہو، یا بنا ہوا کھانا(العیاذ باللہ) پھینک دیا جائے بلکہ جب پہلے سے کھانا موجو د ہے اگر وہ گھر والوں کو کفایت کرے تو اب دوسروں کو کھانا بھیجنا بھی نہیں چاہیے کہ حاجت نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.