Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسجد کے بور سے شادی کے لئے پانی کی ٹینکی بھرنا
- Fatwa no.
- 3180-WAT
- Issued
- 08 ربیع الثانی 1446ھ / 12 اکتوبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) مسجد زیر تعمیر ہے، وہاں پر مسجد کا ہی بور ہے ، پاس میں کسی شخص کے ہاں شادی ہے ، وہ شخص مسجد کی خدمت بھی کرتے رہتے ہیں، لیکن وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے بور کے پانی کی ضرورت ہے مجھے ٹینکی بھرنی ہے۔ کیا ان کو پانی بھرنے کی ہم اجازت دے سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
مسجد کا پانی مسجد کے کاموں میں ہی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کسی شخص کی شادی کے لئے مسجد کے بور سے پانی دینا شرعاً جائز نہیں ہے۔ اس شخص کو پیار محبت سے اچھے انداز میں سمجھایا جائے کہ شرعی طور پر مسجد کی اشیاء کو ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں۔ فتاوی رضویہ میں ہے ”جو زمین متعلق مسجد ہے وہ مسجد ہی کے کام میں لائی جاسکتی ہے اور اس کے بھی اسی کام میں جس کے لئے واقف نے وقف کی، وقف کو اس کے مقصد سے بدلنا جائز نہیں۔“(فتاوی رضویہ، ج16، ص 546، رضا فاؤنڈیشن، لاهور) بہارِ شریعت میں ہے ”مسجد کے ڈول رسی سے اپنے گھر کے لئے پانی یا کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بے موقع اور بے محل استعمال کرنا، نا جائز ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.