Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اذان کے وقت سلام کرنا اور سلام کا جواب دینا
- Issued
- 08 ربیع الثانی 1446ھ / 12 اکتوبر 2024ء
Question
(دعوت اسلامی) اذان کے وقت سلام کرنا اور سلام کا جواب دینا کیسا؟
Answer (beginning)
اذان کے وقت سلام کرنا، یا سلام کا جواب دینا ممنوع ہے۔ لہذا اذان کے دوران کسی کو سلام نہ کیا جائے اور اگر کوئی سلام کرے تو اس کا جواب نہ دیا جائے، بلکہ توجہ کے ساتھ اذان سنی جائے اور اذان کا جواب دیا جائے۔ بحر الرائق میں ہے: ” في فتاوى قاضي خان إجابة المؤذن فضيلة وإن تركها لا يأثم، وأما قوله عليه الصلاة والسلام { من لم يجب الأذان فلا صلاة له } فمعناه الإجابة بالقدم لا باللسان فقط۔۔۔۔ ولا يقرأ السامع ولا يسلم ولا يرد السلام ولا يشتغل بشيء سوى الإجابة “ یعنی فتاوی قاضی خان میں ہے کہ اذان کے جواب دینے میں فضیلت ہے اور اگر کوئی شخص اذان کا جواب زبان سے نہ دے تو وہ گنہگار نہیں ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.