Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا کفریہ بات سن کر توبہ نہ کروانے والا کافر ہوگا؟

Fatwa no.
3173-WAT
Issued
10 ربیع الثانی 1446ھ / 14 اکتوبر 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص، کسی کے سامنے کفریہ بات کہے ، اور سنے والا اُسے کفر سے توبہ نہ کروائے، تو کیا اس دوسرے شخص پر حکم کفر ہو گا؟

Answer (beginning)

کفریہ بات سن کر اس سے توبہ نہ کروانے والے پر حکم کفر تو نہیں، البتہ بعض صورتوں میں کفریہ بات سن کر کفر سے توبہ نہ کروانا گناہ ہے ، اور بعض صورتوں میں نہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ: جب سننے والے کو یقینی طور پر معلوم ہو کہ یہ بات کفریہ ہے جیسے کسی مستند سنی عالم دین کی رہنمائی اس کے متعلق موجود ہو ، اور ساتھ ہی سننے والے کو اس بات کا بھی غالب گمان ہو کہ اگر وہ سامنے والے کو اس کفریہ بات سے تو بہ کرنے کا کہے گا، تو وہ اس کی بات مان کر توبہ کرلے گا، تو اب اگر سننے والے نے اس کو کفریہ بات سے توبہ نہ کروائی، تو اس صورت میں تو بہ نہ کروانے والا شخص ضرور گنہگار ہو گا، کیونکہ کفر سے توبہ کروانا، نہی عن…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.