Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بے ہوشی کی حالت میں کتنی نمازیں رہ جائیں، تو قضا لازم نہیں رہتی؟

Answer (beginning)

پوچھے گئے مسئلے میں چھ نمازوں سے مراد چھ فرض نمازیں ہیں ، اس میں وتر شامل نہیں، یعنی اگر کسی کی بے ہوشی کی حالت میں وتر کو ملا کر کل چھ نمازیں فوت ہو جائیں اور چھٹی فرض نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے ہوش آ جائے، تو اس پر ان نمازوں کی قضا لازم ہے اور چھٹی فرض نماز کا وقت بھی ختم ہو جائے، تو اب قضا ساقط ہو جائے گی۔ اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ فقہائے کرام علیہم الرحمۃ نے فرمایا ہے کہ اگر بے ہوشی ایک دن رات سے زیادہ طاری رہی، تو اس دوران فوت ہونے والی نمازوں کی قضا لازم نہیں، چنانچہ امام شمس الائمہ سرخسی علیہ الرحمة مبسوط میں لکھتے ہیں: ” فإن كان مغمى عليه ينظر إذا كان مغمى 1 عليه يوما وليلة أو أقل…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.