Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مہک کا مطلب اور مہک نام رکھنا کیسا

Fatwa no.
3168-WAT
Issued
06 ربیع الثانی 1446ھ / 10 اکتوبر 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بچی کا نام مہک رکھ سکتے ہیں یا نہیں ؟

Answer (beginning)

بچی کا نام مہک رکھنا جائز اور معنی کے اعتبار سے درست ہے کہ اس کا مشہور معنی "خوشبو" ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ، نیز امید ہے کہ اچھے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہو گی۔ فیروز اللغات میں ہے " مہک : خوشبو، میٹھی باس، نکہت۔ " (فیروز اللغات،ص1388، فیروز سنز لاہور) الفردوس بماثور الخطاب میں ہے: ”تسموا بخیار کم “ ترجمہ : اچھوں کے نام پر نام رکھو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.