Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پرندوں کی خرید و فروخت کا حکم
- Fatwa no.
- 3167-WAT
- Issued
- 06 ربیع الثانی 1446ھ / 10 اکتوبر 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ کیا شریعت میں پرندوں کی خرید و فروخت ناجائز ہے؟
Answer (beginning)
پرندوں کی خرید و فروخت شرعاً جائز ہے، اس میں حرج نہیں۔ البتہ ! یہ یادر ہے کہ پرندوں کے دانے پانی اور آرام وغیرہ کا خوب خیال رکھا جائے، ان کو تکلیف پہنچانے سے باز رہے کہ جانور پر ظلم ، ذمی پر ظلم سے سخت تر ہے اور ذمی پر ظلم، مسلمان پر ظلم سے سخت تر ہے۔ در مختار میں ہے ” ( وصح بيع الكلب)۔۔۔ حتى الهرة وكذا الطيور “ ترجمہ : کتے۔۔۔ بلی کی خرید و فروخت درست ہے اسی طرح پرندوں کی بھی۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب البيوع، ج 5، ص 226,227، دار الفکر بیروت) تبیین الحقائق میں ہے: ” من الطيور یجوز بیعہ “ ترجمہ : پرندوں کی بیع جائز ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.