Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جس شخص پر پیشاب کے بعد استبراء لازم ہو، اس کا امام بننا

Fatwa no.
3165-WAT
Issued
06 ربیع الثانی 1446ھ / 10اکتوبر 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی شخص پر پیشاب کرنے کے بعد استبراء لازم ہو اور اس کے قطرے چلنے سے یا لیٹنے سے، بیٹھنے سے یا قطرے زائل کرنے کے جو بھی طریقے ہیں، ان میں سے کسی بھی طریقے قطرے بالکل زائل ہو جائیں اور اب اس کو یقین ہو جائے کہ کوئی قطرہ نہیں آئے گا تو کیا وہ امامت کروا سکتا ہے؟

Answer (beginning)

جی ہاں ! اگر اس شخص میں دیگر شرائط امامت پائی جائیں اور وہ فاسق معلن بھی نہ ہو تو ایسا شخص امامت کرواسکتا ہے؛ کیونکہ یہ شخص معذور شرعی نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ شرعی معذور ہونا اس وقت ثابت ہو تا ہے کہ جب کسی شخص کو وضو توڑ دینے والا کوئی معاملہ اس طرح لاحق ہو جائے کہ ایک نماز کا پورا وقت اس طرح گزر جائے کہ اسے وضو کر کے فرض نماز کی ادائیگی کا موقع ہی نہ مل سکے۔ جبکہ پوچھی گئی صورت میں استبراء کے بعد اس شخص کو قطرے آنا ختم ہو جاتے ہیں، لہذا یہ معذور شرعی نہیں۔ اور جو معذور شرعی نہ ہو ، وہ عام لوگوں کی امامت کر سکتا ہے جبکہ شرائط امامت اس میں پائی جاتی ہوں اور وہ فاسق معلن بھی نہ ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.