Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نمازکے دوران سجدے میں ناک پر نظر رکھنے کاحکم
- Fatwa no.
- 3162-WAT
- Issued
- 05 ربیع الثانی 1446ھ / 09اکتوبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ کیا سجدے میں نظر ناک پر رکھنا ضروری ہے ، اور اگر نظر ناک پر نہ رکھ سکیں تو کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
جی نہیں ! سجدے میں ناک پر نظر رکھنا ضروری نہیں، بلکہ یہ نماز کے آداب اور مستحبات میں سے ہے۔ کوشش یہی کرنی چاہیے کہ نماز کی حالت میں نظر رکھنے کے جو مقامات بیان ہوئے ہیں، وہیں نظر رکھی جائے ، لہذ اسجدے میں ناک پر نظر رکھنی چاہیے لیکن اگر کسی نے سجدے میں ناک پر نظر نہ رکھی تو صرف اس نے خلاف اولیٰ (بہتر کے خلاف کام کیا، نماز بغیر کراہت کے درست ہو جائے گی۔ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے : " ( ولها آداب) تركه لا يوجب اساءة ولا عتابا كترك سنة الزوائد لكن فعله افضل (نظره إلى موضع سجوده حال قيامه، وإلى ظهر قدميه حال ركوعه، وإلى أرنبة أنفه حال سجوده، وإلى حجره حال قعوده.
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.