Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چند ماہ کا بچہ فوت ہو جائے تو ایصال ثواب کا حکم
- Fatwa no.
- 3157-WAT
- Issued
- 04 ربیع الثانی 1446ھ / 08اکتوبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) 4،3 ماہ کا بچہ یا 4، 5 سال کا بچہ جو نا سمجھ ہو اور فوت ہو جائے تو اس کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور درود شریف یا تسبیحات پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ ہمارے ہاں یہ بولا جاتا ہے کہ بچہ چھوٹا ہے، گناہ سے پاک ہے تو اس کے لیے نہیں کر سکتے ، اس کی رہنمائی فرمائیں۔
Answer (beginning)
ایصال ثواب جس طرح بالغ افراد کو کر سکتے ہیں، اسی طرح نابالغ بچوں کو بھی کرنا، جائز ہے۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ ایصال ثواب صرف اس لیے نہیں کیا جاتا کہ نعوذ باللہ کسی نے گناہ کیے تھے تو اس کی بخشش و مغفرت ہو جائے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایصالِ ثواب اللہ پاک سے رحمتوں کا نزول، اس کے حضور درجات کی بلندی کے لیے بھی ہوتا ہے ، اور اس کی ہر مخلوق محتاج ہے ، اسی لیے جو معصوم ہیں جیسے انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام، جو گناہوں سے ایسے پاک ہیں کہ ان سے گناہ صادر ہو ناشر عامحال ہے ، ان کو بھی ایصال ثواب کیا جاتا ہے، لہذا یہ کہنا کہ ”بچہ چھوٹا ہے ، گناہ سے پاک ہے تو اس کے لیے ایصال ثواب نہیں کر سکتے “ یہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.