Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زمین ٹھیکے پر دینے کا حکم
- Fatwa no.
- 3156-WAT
- Issued
- 03 ربیع الثانی 1446ھ / 107اکتوبر 2024ء
Question
کیار قم کے بدلے زمین ٹھیکے پر دینا جائز ہے؟ (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
جی ہاں !ر قم کے بدلے زمین ٹھیکے پر لینا دیناشر عاجائز ہے جبکہ اس کی شرائط کالحاظ ر کھا جائے مثلا اجارے کی مدت اور اجرت کی مقدار متعین ہو اور یہ بیان کر دیا جائے کہ اُس میں کیا چیز ہوئی جائے گی یا کاشتکار سے یہ کہہ دے کہ جو تو چاہے بولیا کر۔ اس طرح ٹھیکے پر زمین لینے کا جواز احادیث مبارکہ سے ثابت ہے اور صحابہ کرام کا اس پر عمل رہا۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے: ” عن رافع بن خديج، قال: حدثني عماي، أنهم كانوا يكرون الأرض على عهد النبي صلى الله عليه وسلم بما ينبت على الأربعاء أو شيء يستثنيه صاحب الأرض «فنهى النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك»، فقلت لرافع : فكيف هي بالدينار والدرهم؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.