Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسجد میں اگر بتی جلانے کا حکم
- Fatwa no.
- 3155-WAT
- Issued
- 03 ربیع الثانی 1446ھ / 07اکتوبر 2024ء
Question
کیا مسجد میں اگر بتی جلا سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
مسجد میں اگر بتی جلانا، جائز ہے۔ البتہ ! اس کے لیے ماچس مسجد میں نہیں جلا سکتے ، کیونکہ ماچس میں بارود کی بو ہوتی ہے، بلکہ اگر بتی کو مسجد کے باہر سے جلا کر مسجد میں لایا جائے۔ نیز اگر بتی کے نیچے کوئی ایسی چیز رکھ دی جائے کہ اس کی راکھ اس چیز میں گرے، مسجد میں نہ گرے۔ حدیث پاک میں مسجدوں کو خوشبو دار رکھنے کا حکم موجود ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے: ” عن عائشة، قالت: أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم ببناء المساجد في الدور وأن تنظف وتطيب يعنى حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محلوں میں مسجدیں بنانے کا حکم دیا یہ کہ وہ صاف اور خوشبو دار رکھی جائیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.