Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا اللّٰہ تعالی کو گناہ کا خالق کہہ سکتے ہیں؟

Fatwa no.
3148-WAT
Issued
29 ربیع الاول 1446ھ / 104اکتوبر 2024ء

Question

(دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص یہ کہے کہ "گناہ کا خالق بھی اللہ ہی ہے " یعنی گناہوں کو خلق کرنے والا بھی اللہ ہے ، تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

Answer (beginning)

یہ بات درست ہے کہ گناہ کا خالق بھی اللہ تعالی ہی ہے، ایسا ہر گز نہیں کہ گناہ کا خالق انسان یا کوئی اور ہو ، ہاں کسب کا تعلق انسان سے ہے کہ وہ کسب میں خود مختار ہے، نیکی کرتا ہے یا بدی، یہ اس کے اختیار میں ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ گناہ کو تخلیق ہی انسان نے کیا ہے۔ البتہ ! نیکی و بدی کی نسبت کرنے میں ادب کا تقاضا یہ ہے کہ نیکی کی توفیق ملے تو اس کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کی جائے اور گناہ سر زد ہو تو اسے اپنی شامت نفس تصور کرے۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ہے: ﴿وَ اللهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ ) ترجمہ کنز الایمان : اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے اعمال کو ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.