Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قبر کھودنے کی اجرت لینے کاحکم

Fatwa no.
3145-WAT
Issued
29 ربیع الاول 1446ھ / 04اکتوبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ کیا قبر کھودنے کی اجرت لینا جائز ہے؟ براہ مہربانی جواب ارشاد فرمادیجئے۔

Answer (beginning)

گورکن کے لیے قبر کھودنے کی اجرت لینا اس صورت میں جائز ہے ، جبکہ اس کے علاوہ کوئی اور بھی قبر کھودنے کی صلاحیت رکھنے والا وہاں موجود ہو ، اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور ایسا نہ ہو تو اس صورت میں اس کے لیے قبر کھودنے کی اجرت لینا جائز نہیں کہ اس صورت میں اسی گور کن پر قبر کھودنا واجب ہے ، اور واجب کی ادائیگی پر اجرت لینا حرام ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے " والأفضل أن يغسل الميت مجانا و إن ابتغى الغاسل الأجر فإن كان هناك غيره يجوز أخذ الأجر وإلا لم يجز، هكذا في الظهيرية. "ترجمه : افضل یہ ہے کہ میت کو بغیر اجرت کے غسل دے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.