Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نمازِ تہجد شروع کرنے کے بعد چھوڑنا
- Issued
- 27 ربیع الاول 1446ھ / 02اکتوبر 2024ء
Question
(دعوت اسلامی) اگر تہجد کی نماز پڑھنی شروع کی جائے تو روٹین سے پڑھنی ضروری ہے یا چھوڑ بھی سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
نماز تہجد سنت مستحبہ اور شرعاً بہت پسندیدہ ہے۔ قرآن و احادیث میں اس کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ اسے چھوڑنے والا بڑی فضیلت سے محروم ہوتا ہے ، اور جو شخص تہجد کا عادی ہو اسے بلا عذر تہجد چھوڑ نا مکروہ و نا پسند یدہ ہے کہ حدیث پاک میں اس سے ممانعت کی گئی ہے۔ تاہم یہ واضح رہے کہ اگر تہجد کاعادی، تہجد چھوڑ دے تو وہ گناہ گار نہیں ہو تا۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا ” یا عبد الله ، لا تكن مثل فلان كان يقوم الليل، فترك قيام الليل“ ترجمہ : اے عبد اللہ ! تو فلاں کی طرح نہ ہونا کہ رات میں اٹھا کرتا تھا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.