Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جانور مر جائے تو اسے دفن کرنا ضروری ہے یا نہیں؟

Issued
27 ربیع الاول 1446ھ /02اکتوبر 2024ء

Question

دارالافتاءابلسنت (دعوت اسلامی) اگر گھر کے پالتو جانور جیسے بلی وغیرہ مرجائیں تو کیا ان کی تدفین ضروری ہے ؟ یا پانی وغیرہ میں بھی ڈال سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

پالتو جانور مر جائیں تو مسلمان میت کی طرح ان کی تدفین ضروری نہیں ہے۔ البتہ اس کے گلنے سڑنے اور تعفن کے سبب اذیت و بیماری، اور بد بو کی ناگواری سے بچنے کے لیے ان کو گڑھا کھود کر دبانا چاہیں تو دباسکتے ہیں۔ ایسی جگہ نہ پھینکیں کہ جہاں پھینکنے میں اس کی بدبو وغیرہ سے مسلمانوں کو تکلیف ہو۔ اسی طرح پانی میں بھی نہ پھینکیں کہ بعض صورتوں میں پانی ناپاک ہو جائے گا( مثلا تھوڑا پانی جو ٹھہر اہو اہو یا جاری ہو لیکن پانی کے رنگ، بو، ذائقہ میں سے کسی کو بدل دے) اور پاک چیز کو بلاوجہ شرعی ناپاک کرنا گناہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.