Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بالوں میں جَیل لگی ہو تو نماز پڑھنےکا حکم

Issued
21 ربیع الثانی 1446ھ / 25اکتوبر 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بالوں میں بجیل لگی ہو تو نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

بیل اگر ناپاک اشیاء سے نہیں بنی، نیز اس میں بدبو بھی نہیں ہے تو اس کو لگا کر نماز پڑھنابلا کراہت جائز ہے۔ خیال رہے بیل لگا کر وضو و غسل کرنے میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ پانی بالوں تک پہنچ جائے اگر جھیل کی تہہ بنتی ہے جو پانی کو بالوں تک نہ پہنچنے دے تو اس کو دور کر کے وضو و غسل کرناضروری ہے وگرنہ وضو و غسل نہ ہو گا۔ فتاوی ہندیہ میں ہے ”و الخضاب إذا تجسد ويبس يمنع تمام الوضوء والغسل كذافي السراج الوهاج ناقلا عن الوجيز “ ترجمہ : خضاب جب جرم دار ہو اور خشک ہو جائے تو وضو اور غسل کی تمامیت سے مانع ہے یعنی اس کی وجہ سے وضو اور غسل تام نہیں ہو گا، السراج الوھاج میں وجیز کے حوالے سے اسی طرح ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.