Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مہر معجل کی ادائیگی سے پہلے شوہر و بیوی کےملاپ کاحکم

Fatwa no.
3125-WAT
Issued
20 ربیع الثانی 1446ھ / 24 اکتوبر 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نکاح میں مہر معجل لکھا ہو ، تو کیا اس کی ادائیگی سے پہلے میاں بیوی کا ملاپ حرام و گناہ ہوتا ہے ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر زوجہ کی رضامندی سے ازدواجی تعلق ہو ، تو حلال ہے ، البتہ مہر اگر معجل ہے یعنی خلوت سے پہلے دینا قرار پایا ہے ، تو اس کی ادائیگی سے پہلے عورت کو اختیار ہے کہ اگر وہ چاہے، تو وطی (ہمبستری) و مقدماتِ وطی (ہمبستری سے پہلے والے امور جیسے بوسہ لینا وغیرہ) سے شوہر کو باز رکھے ، خواہ کل معجل ہو یا بعض اور شوہر کو حلال نہیں کہ عورت کو مجبور کرے، اگر چہ اس سے پہلے عورت کی رضامندی سے وطی و خلوت ہو چکی ہو یعنی یہ حق عورت کو ہمیشہ حاصل ہے، جب تک وصول نہ کرلے، لہذا اگر ایک دفعہ عورت نے ہمبستری کی اجازت دے دی اور ابھی تک مہر معجل ادا نہیں ہوا تو اس کی ادائیگی سے پہلے اب اگلی مرتبہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.