Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اونٹ والے کا حق ابو جہل سے دلوانے والا واقعہ
- Fatwa no.
- 3121-WAT
- Issued
- 12 ربیع الثانی 1446ھ / 16 اکتوبر 2024 ء
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع واقعہ ہذا میں کہ مکہ میں ایک بندہ کسی ملک کا رہنے والا اپنا اونٹ لے کر آیا، ابو جہل نے اس سے اونٹ لے لیا اور پیسے نہیں دیئے، تو المختصر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاف دلوایا اور اس کا اونٹ یا پیسے ابو جہل سے واپس کرائے۔ کیا یہ واقعہ درست ہے ؟ ر ہنمائی فرمائیں۔
Answer (beginning)
جی ہاں ! یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کے فضائل و مناقب میں شمار ہوتا ہے ، اور یہ سیرت و تاریخ کی کئی معتبر کتب میں موجود ہے۔ چنانچہ سیرت ابن ہشام، سیرت ابن اسحاق، البدایہ والنہایہ وغیرہ میں ہے، واللفظ للاول: ”قال ابن إسحاق : ۔۔۔ قدم رجل من إراش قال ابن هشام: ويقال إراشة بإبل له مكة، فابتاعها منه أبو جهل فمطله بأثمانها. فأقبل الإراشي حتى وقف على ناد من قريش، ورسول الله صلى الله عليه وسلم في ناحية المسجد جالس، فقال: يا معشر قريش، من رجل يؤديني على أبي الحكم بن هشام فإني رجل غريب، ابن سبيل، وقد غلبني على حقي؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.