Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قادیانی کے ریٹائر ہونے پر اسے پارٹی دینے کا حکم

Fatwa no.
3116-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ساتھ ایک قادیانی ملازم ہے۔ 32 سال اس نے ہمارے ساتھ نوکری کی۔ اب وہ ریٹائر ہونے جارہا ہے ، اس کو پارٹی دینی چاہیے یا نہیں ؟ کیونکہ ہمارے پاس سے جب بھی کوئی ریٹائر ہو کر جاتا ہے ، اس کو پارٹی دی جاتی ہے۔

Answer (beginning)

قادیانی شخص کو پارٹی دینا حرام ہے کہ وہ کا فرو مرتد ہے۔ یہ اس غلیظ مذ ہب سے تعلق رکھتا ہے کہ جس میں مرزا غلام احمد کذاب مرتد کو نبی مانتے اور اس طرح کے کئی کفریات رکھتے ہیں۔ جب کہ مرتدوں کے ساتھ میل جول رکھنا، ان کے ساتھ کھانا پینا، ان کی غمی خوشی میں شریک ہونا، غرض کسی طرح کا بھی تعلق رکھنا سب ناجائز و حرام ہے۔ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ” قادیانی مرتد ہیں، اُن کے ہاتھ نہ کچھ بیچا جائے، نہ اُن سے خرید اجائے، اُن سے بات ہی کرنے کی اجازت نہیں۔ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : " انا کم وانیا هم " اُن سے دُور بھا گو اور انہیں اپنے سے دور رکھو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.