Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

باپ نے دخول سے پہلے بیوی کو طلاق دے دی تو بیٹا اس سے نکاح کر سکتا ہے؟

Fatwa no.
3113-WAT
Issued
21 ربیع الاول 1446ھ / 25 ستمبر 2024ء

Question

باپ نے دخول سے پہلے بیوی کو طلاق دے دی تو بیٹا اس سے نکاح کر سکتا ہے ؟

Answer (beginning)

باپ نے جس عورت سے نکاح کر کے دخول سے پہلے اسے طلاق دے دی، بیٹا اس کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ عورت اس لڑکے کی سوتیلی ماں ہے اور سوتیلی ماں سے نکاح حرام ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَ مَقْتًا وَ سَاء سَبِيلا ترجمہ کنز الایمان : اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو مگر جو ہو گزراوہ بے شک بے حیائی اور غضب کا کام ہے اور بہت بری راہ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.