Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ادھار خریدو فروخت میں خریدار مدت سے پیسے لیٹ کرے تو زیادہ پیسے لینے کا حکم

Fatwa no.
3108-WAT
Issued
10 ربیع الاول 1446ھ / 13 ستمبر 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں ایک مشین دس لاکھ کی خرید تاہوں، اور ایک سال کے ادھار پر 15 لاکھ کی بیچ دیتا ہوں، تو اگر خریدار ایک سال سے زیادہ ، پیسے لیٹ کرے تو میں زیادہ پیسے لے سکتا ہوں ؟رہنمائی فرما دیں۔

Answer (beginning)

صورتِ مسئولہ میں متعین مدت سے زیادہ پیسے لیٹ ہونے پر اضافی رقم لینا جائز نہیں کیونکہ یہ تعزیر بالمال (مالی سزا) ہے اور تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل کرنانا جائز و حرام ہے، البتہ کسٹمر پر لازم ہے کہ بلا وجہ شرعی رقم کی ادائیگی میں تاخیر نہ کرے، اگر بیچنے والے کی رضا کے بغیر ، بلا اجازت شرعی تاخیر کرے گا تو گنہ گار ہو گا لیکن اس وجہ سے اس سے جرمانہ لینا، کسی صورت میں جائز نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.