Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غسل کے دوران کوئی بات کرنا یا کوئی چیز مانگنا

Fatwa no.
3107-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا واش روم میں نہاتے ہوئے کچھ بولنا گناہ ہے اور اگر والدین کچھ پوچھیں جبکہ انہیں معلوم ہو کہ واش روم میں ہے ، اسی طرح نہاتے ہوئے کوئی چیز مانگنا کیا گناہ ہے جیسے صابن وغیرہ؟

Answer (beginning)

واش روم میں نہاتے ہوئے بلا ضرورت بولنا گناہ نہیں بلکہ خلاف مستحب و مکروہ تنزیہی ہے ، البتہ اگر کوئی ضرورت ہو تو بولنا جائز ہے مثلا صابن نہیں ہے صابن مانگنے کے لئے بولنا یا پانی ختم ہو گیا ہے اور پانی کے لئے بولناو غیر ہ اور اس میں حتی الامکان یہ کیا جائے کہ اگر کوئی کپڑ اوغیرہ پاس موجود ہو تو اس سے ستر کرلے اور پھر بولے۔ چنانچہ علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: " ( قوله : و آدا به كآدابه) نص عليه في البدائع : قال الشرنبلالي: ويستحب أن لا يتكلم بكلام مطلقا، أما كلام الناس فلكراهته حال الكشف، وأما الدعاء فلأنه في مصب المستعمل ومحل الأقذار والأوحال اھ۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.