Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

میت کا اپنا مال میت کے ساتھ دفن ہو جائے تو اسے نکالنے کے لئے قبر کھودنا

Fatwa no.
3106-WAT
Issued
10 ربیع الاول 1446ھ / 13 ستمبر 2024 ء

Question

لئے قبر کھودنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر میت کا اپنا ہی موبائل کفن میں رہ جائے تو اسے نکالنے کے لیے قبر کھولنے کا کیا حکم ہے ؟ مختلف حادثات میں فوج کی طرف سے فوت شدگان کو جو غسل اور کفن دیا جاتا ہے ، تو میت کا چھوٹا موٹا سامان جیسے پرس موبائل وغیرہ تابوت میں رکھ دیا جاتا ہے تو بعض اوقات ورثاء کو بتانا بھول جاتے ہیں جس کی وجہ سے میت کے ساتھ ہی دفن ہو جاتا ہے اس کو نکالنے کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

ہر شخص کے انتقال کے بعد اس کے مال کے مالک اس کے ورثاء ہو جاتے ہیں ، تو اگر میت کے ساتھ ورثاء کا مال بھی قبر میں دفن ہو جائے تو ان ورثاء کے لئے مال کو قبر سے نکالنے کے لئے ، قبر کھولنے کی اجازت ہے۔ در مختار میں ہے ”(ولا یخرج منه) بعد إهالة التراب (إلا) لحق آدمي ك (أن تكون الأرض مغصوبة ۔۔الخ “ ترجمہ : میت پر مٹی ڈالنے کے بعد اسے قبر سے نہیں نکالا جائے گا، مگر اس کے ساتھ کسی آدمی کا حق متعلق ہو مثلاً غصب شدہ زمین میں دفن کر دیا گیا تو نکال سکتے ہیں۔ اس کے تحت رد المحتار میں ہے "وكما إذا سقط في القبر متاع۔۔۔ أو دفن معه مال قالوا: ولو كان المال در همابحر.

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.