Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حمنہ کا مطلب اور حمنہ نام رکھنا کیسا
- Fatwa no.
- 3095-WAT
- Issued
- 16 ربیع الاول 1446ھ / 21 ستمبر 2024 ء
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حمنہ نام رکھنا کیسا؟
Answer (beginning)
حمنہ نام رکھنا جائز بلکہ باعث برکت ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی صحابیہ رضی اللہ عنہا کا نام ہے اور حدیث پاک میں اچھوں کے ناموں پر نام رکھنے کا حکم فرمایا گیا ہے۔ الاصابۃ فی تمییز الصحابہ میں ہے ” حمنة بنت جحش الأسدية ، أخت أم المؤمنین زینب۔۔۔ قال أبو عمر: كانت من المبايعات، وشهدت أحدا، فكانت تسقي العطشی ۔۔الخ ترجمہ : حمنہ بنت جحش الاسد یہ ، ام المؤمنین حضرت سیدہ زینب رضی اللہ تعالی عنھا کی بہن ہیں ، ابو عمر نے کہا: یہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی بیعت لینے والی صحابیات میں سے تھیں، غزوہ احد میں حاضر ہوئی تھیں، وہاں پیاسوں کو پانی پلاتی تھیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.