Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گونگے شخص کے ذبیحہ کا حکم
- Fatwa no.
- 3093-WAT
- Issued
- 16 ربیع الاول 1446ھ / 21 ستمبر 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت کیا گونگا مسلمان شخص مرغی ذبح کر سکتا ہے ؟ (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
جی ہاں ! گو نگا مسلمان شخص مرغی وغیرہ جانور ذبح کر سکتا ہے، جبکہ رگیں ٹھیک طرح کاٹ سکتا ہو۔ المبسوط للسرخسی میں ہے " (وذبيحة الأخرس حلال مسلما كان أو كتابيا)؛ لأن عذره أبين من عذر الناسي. فإذا كان في حق الناسي تقام ملته مقام تسميته ففي حق الأخرس أولی. "ترجمہ: اور گونگے کا ذبح کیا گیا جانور حلال ہے ، چاہے گونگا مسلمان ہو یا کتابی، کیونکہ اس کا عذر ، بھولنے والے کے عذر کے مقابلے میں زیادہ واضح ہے۔ پس جب بھولنے والے کے حق میں اس کے مذہب کو اس کی تسمیہ کے قائم کیا جاتا ہے تو گونگے کے حق میں تو بدرجہ اولی کیا جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.