Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ہاتھ پاؤں کٹے ہوں اور چہرہ زخمی ہو تو وہ وضو کیسے کرے ؟
- Fatwa no.
- 3089-WAT
Question
(دعوت اسلامی) جس کے ہاتھ اور پیر کٹے ہوئے ہوں اور چہرہ پر زخم ہو تو وہ وضو کیسے کرے گا؟
Answer (beginning)
جس شخص کے ہاتھ پاؤں اس طرح کئے ہوئے ہوں کہ کہنی و ٹخنہ اعضائے وضو میں سے کچھ بھی باقی نہ رہے اور چہرے پر زخم ہوں، اس کے لیے بھی شریعت نے آسانی در خصت کی صورت نکالی ہے کہ وہ بغیر وضو اور تیم کے نماز پڑھ لے ، اس پر طہارت کا حصول لازم نہیں رہتا، لہذا جب تک طہارت ممکن نہ ہو ( چہرے پر زخم ہیں )، طہارت کے بغیر نماز ادا کرے نماز ہو جائے گی۔ مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے ”مقطوع اليدين والرجلين إذا كان بوجهه جراحة، يصلي بغير طهارة ولا يعيد وهو الأصح “ترجمہ : جس کے دونوں ہاتھ اور پیر کٹے ہوئے ہوں جبکہ چہرہ زخمی ہو تو ایسا شخص بغیر طہارت کے نماز پڑھے گا اور اعادہ نہیں کرے گا، یہی اصح ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.