Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مقتدی امام کے ساتھ کس وقت شریک ہوتو اسے رکعت پانے والا شمار کیا جائے گا؟
- Fatwa no.
- 3080-WAT
- Issued
- 13 ربیع الاول 1446ھ / 18 ستمبر 2024ء
Question
دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) کیا امام کے رکوع سے اٹھنے کے بعد رکعت ختم ہو جاتی ہے، یا التحیات میں بیٹھنے کے بعد ختم ہوتی ہے ؟ یعنی مقتدی امام کے ساتھ کس وقت شریک ہو تو اسے رکعت پانے والا شمار کیا جائے گا؟
Answer (beginning)
احادیث مبارکہ اور فقہائے کرام کی وضاحت کی روشنی میں مقتدی رکعت پانے والا تب ہی قرار پائے گا، جب امام کے رکوع سے اٹھنے سے پہلے اس کے ساتھ اس حالت میں شامل ہو جائے ، جس میں امام ہے مثلا اگر امام قیام میں ہے تو قیام میں اس کے ساتھ شامل ہو جائے اور اگر امام رکوع میں ہے تو رکوع میں شامل ہو جائے۔ لہذا اگر کوئی شخص جماعت میں اس وقت شامل ہوا کہ امام رکوع سے اٹھ چکا تھا تو وہ رکعت اس کی فوت ہو گئی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.