Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زکوۃ کی نیت سے مستحق زکوۃ کو موبائل دینا کیسا؟

Fatwa no.
3077-WAT
Issued
13 ربیع الاول 1446ھ / 16 ستمبر 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مستحق زکوۃ کو پیسوں کی بجائے نیو موبائل لے کر دیا جا سکتا ہے ؟ اگر دیا جا سکتا ہے تو موبائل خریدتے وقت زکوۃ کی نیت کی جائے گی یا مستحق کو موبائل دیتے وقت ؟ اگر تحفہ کہہ کر دیا جائے تو دل میں اس وقت نیت کا ہونا ضروری ہے ؟ شرعی رہنمائی فرما دیں تاکہ زکوۃ ادا ہو سکے۔

Answer (beginning)

جی ہاں! مستحق شخص کو زکوۃ کی نیت سے نیو موبائل خرید کر اس کا مالک بنانے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی اور دل میں زکوۃ کی نیت کرناضروری ہے اگر چہ زبان سے تحفہ کہہ کر دیا جائے، اسی طرح فی نفسہ زکوۃ کی نیت کرناضروری ہے، چاہے موبائل خرید کر علیحدہ کرتے وقت نیت کی جائے یا شرعی فقیر کو موبائل کا مالک بناتے وقت ، دونوں صورتیں درست ہیں، البتہ اگر زکوۃ کی نیت کیے بغیر ، مستحق زکوۃ کو موبائل کا مالک کر دیا تو اب نیت اس وقت تک درست ہو گی جبکہ موبائل اس شخص کی ملکیت میں باقی ہو۔ یہ یادر ہے کہ جتنے کا موبائل مارکیٹ ریٹ کے اعتبار سے ہو گا اتنی ہی رقم زکوۃ میں ادا ہو گی اوپر کے خرچے اس میں شامل نہیں ہوں گے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.