Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
آنکھ پھڑکنے سے بدشگونی لینے کا حکم
- Fatwa no.
- 3076-WAT
- Issued
- 13 ربیع الاول 1446ھ / 16 ستمبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی کی دائیں آنکھ پھڑ کے تو کیا ہوتا ہے؟
Answer (beginning)
بائیں آنکھ پھڑکنے کو کچھ برا ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے ، اور یہ نظریہ رکھنا کہ آنکھ پھڑکنے کی وجہ سے کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے تو یہ بد شگونی ہے اور کسی چیز سے بدشگونی لینا مسلمانوں کا طریقہ نہیں بلکہ غیر مسلموں کا شیوہ ہے۔ لہذا ایسے نظریات سے بچنا چاہیے۔ اور اللہ تعالی پر توکل اور بھروسہ رکھنا چاہیے، بحیثیت مسلمان ہمارا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ اچھائی برائی، غمی خوشی، اسی طرح کسی کام کا سنور نا بگڑنا، الغرض کوئی کام بھی اللہ رب العالمین کی مشیت کے بغیر م نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.