Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اسکول میں غیر حاضر طلبا کی حاضری لگانے کا حکم
- Fatwa no.
- 3069-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں ایک اسکول میں نوکری کرتی ہوں اور وہاں کی پرنسپل صرف فیصد بڑھانے کے لیے ہر روز بچوں کی جھوٹی حاضری (Attendance) ہم سے لگواتی ہیں، کیونکہ بچے کم آتے ہیں، تو آپ رہنمائی فرمائیں کہ ہمارا اس کی بات مان کر جھوٹی حاضری لگانا کیسا؟ نیز کیا اس طرح ہم بھی گنہگار ہوں گے یا نہیں ؟
Answer (beginning)
صورت مسئولہ میں آپ کا جھوٹی حاضری لگانا، ناجائز و گناہ ہے ، اور اس کی وجہ سے آپ بھی گنہگار ہوں گے ، کیونکہ غیر حاضر کی حاضری لگانا، یہ جھوٹ اور دھوکا اور جھوٹ بولنا، لکھنا یا دھوکا دینا ناجائز و گناہ ہیں ، اور پرنسپل کا کہنا کوئی عذر نہیں ہے۔ قرآن مجید میں جھوٹ بولنے والوں کے متعلق اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ ترجمہ کنز الایمان: اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہے بدلہ ان کے جھوٹ کا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.