Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بینک سے قرض لے کر عمرہ کرنا کیسا ہے؟
- Fatwa no.
- 3064-WAT
Question
بینک سے قرض لے کر عمرہ کر سکتے ہیں یا نہیں ؟
Answer (beginning)
صورت مسئولہ میں عام طور پر بینک جو قرض دیتے ہیں اس کی واپسی اضافے یعنی سود کے ساتھ کرنا ہوتی ہے اور سود کا لین دین ناجائز و حرام ہے، لہذا عمرہ کے لیے سودی قرض لینے کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔ سود کے بارے میں اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے وَ أَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الربو) ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ نے حلال کیا بیع اور حرام کیا شود۔ (پارہ 3،سورۃ البقرۃ، آیت 275) مصنف ابن ابی شیبہ میں مروی ہے ”کل قرض جرمنفعة، فھوربا “ترجمہ : ہر وہ قرض جو کچھ بھی نفع لائے وہ سود ہے (مصنف ابن ابي شيبة، رقم الاثر 20690، ج 4، ص 327، مكتبة الرشد، الرياض) سنن الترمذی میں ہے ” عن ابن مسعود قال : لعن رسول الله صلى…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.