Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اذان اقامت میں دائیں اور بائیں جانب کیوں دیکھتے ہیں؟

Fatwa no.
3057-WAT
Issued
11 ربیع الاول 1446ھ /14 ستمبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اذان واقامت میں حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح میں دائیں بائیں کیوں دیکھتے ہیں ؟ اور یہ فرض ہے ، واجب ہے یا سنت؟

Answer (beginning)

اذان میں اس لیے چہرہ دائیں بائیں پھیر اجاتا ہے کیونکہ یہ مؤذن رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے یو نہی ثابت ہے ، کہ جب وہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی موجودگی میں اذان دیتے تھے تو حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح پر دائیں بائیں چہرہ پھیر تے تھے ، نیز اس میں دائیں بائیں منہ کر کے اس سمت کے لوگوں کو نماز کی طرف بلانے کے لیے بھی ایسا کیا جاتا ہے اور اقامت کا حکم بھی اس مسئلہ میں اذان کی مثل ہے اور اذان واقامت دونوں میں یہ دائیں بائیں چہرہ پھیرنا، مستحب ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.