Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کافر کا قرض ادا نہ کرنے کا حکم
- Fatwa no.
- 3054-WAT
Question
(دعوت اسلامی) کافر کے قرض کی ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں قیامت کے دن پکڑ ہو گی ؟
Answer (beginning)
کافر سے قرض لے کر بلا وجہ شرعی واپس نہ کرنا حرام ہے، جس پر قیامت کے دن پکڑ ہو سکتی ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے "غدر و بد عہدی مطلقا سب سے حرام ہے مسلم ہو یا کافر، ذمی ہو یا حربی، مستامن ہو یا غیر مستامن، اصلی ہو یا مرتد۔ " (فتاوی رضویہ،ج14،ص139،رضافاؤنڈیشن،لاہور) فتاوی رضویہ میں کافر کے قرض سے متعلق ہے اگر وہ کافر حربی ہے تو اس کے مال کے سبب مسلمان پر حق الـ لازم نہیں جس کا تصفیہ در کار فان اموالهم مباحة غير معصومة ( کیونکہ حربی کافروں کا مال مباح ہے معصوم نہیں) ہاں بطور غدر و عہد شکنی لیا ہو ، گناہ و حق اللہ ہے جس پر مواخذہ یا عفو اللہ عزوجل کی مثیت میں ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.