Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں نکسیر پھوٹ جائے تو کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
3051-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کی نکسیر نماز کی حالت میں جاری ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

اگر دوران نماز کسی کی نکسیر ( ناک سے خون ) جاری ہو جائے تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا کیونکہ عام طور پر نکسیر جاری ہونے میں خون بہنے کی مقدار برابر ہوتا ہے، لہذا ایسی صورت میں فورا دوبارہ نیا وضو کیا جائے ،اب اس کے بعد اس نماز پر بنا بھی کی جاسکتی ہے ، اور اس نماز کو ختم کر کے نئے سرے سے بھی نماز پڑھی جاسکتی ہے اور یہ دوسری صورت ہی بہتر ہے۔ خون سے کب وضو ٹوٹے گا اور کب نہیں، اس کے متعلق صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”خون یا پیپ یاز رد پانی کہیں سے نکل کر بہا اور اس بننے میں ایسی جگہ پہنچنے کی صلاحیت تھی جس کا وضو یا غسل میں دھونا فرض ہے تو وضو جاتارہا اگر صرف…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.