Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اپنے گھر کی بیٹری مسجد کی بجلی سے چارج کرنا

Fatwa no.
3049-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص روزانہ صبح کے وقت یا کبھی شام کے وقت مسجد میں آکر اپنے گھر کی بڑی بیٹری چارج کر کے جاتا ہے ، جبکہ اس کے محلے میں بیٹریاں چارج کرنے والی دکان بھی موجود ہے، مگر اس کے باوجود بھی وہ شخص اپنے پیسے بچانے کے لیے ایسا کرتا ہے۔ ایسے شخص کے متعلق کیا حکم شرعی ہے؟

Answer (beginning)

مسجد کی بجلی مسجد کی ضروریات اور مصالح کے لیے ہوتی ہے، اُسے صرف مسجد ہی کے کاموں اور ضروریات میں استعمال کیا جاسکتا ہے، لہذا سوال میں مذکور شخص کا مسجد کی بجلی سے اپنے گھر کی بیٹری چارج کرنا، مسجد کی بجلی کو خلاف مصرف میں استعمال کرنا ہے، جو کہ شرعانا جائز و گناہ ہے۔ مسجد کی کمیٹی پر لازم ہے کہ وہ اس شخص کو مسجد کی بجلی استعمال کرنے سے روکیں، اگر قدرت کے باوجود مسجد کی کمیٹی والے یا علاقے کے اثر ورسوخ رکھنے والے افراد اس شخص کو اس کام سے باز نہ رکھیں گے ، تو وہ سب بھی گنہ گار ہوں گے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.